مینگلور 7؍جون (ایس او نیوز) الال کے اطراف ساحلی علاقے میں سمندری کٹاؤ بڑھتا جارہا ہے جہاں امڈتی ہوئی موجوں نے ایک گھر نگل لیا ، جبکہ مزید 15گھروں پر اسی طرح کا خطرہ منڈلارہا ہے۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق سمندری کٹاؤ کا بہت زیادہ اثر کائیکو، کلیریا نگراور سومیشور اچھیلا وغیرہ میں دیکھا گیا ہے۔البتہ جن علاقوں میں ایشیئن ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے تعاون سے سمندری کٹاؤ پرمستقل روک لگانے کا منصوبہ جاری ہے، وہاں پر سمندری کٹاؤ نہیں ہوا ہے۔اس با ر سمندری موجوں کی بھینٹ چڑھنے والا گھر اندرا نگر کائیکو کے مرحوم عبداللطیف کی ملکیت بتایا جاتا ہے۔اس گھر کے مکین کٹاؤ کی خطرناک صورتحال کو دیکھتے ہوئے دو دن قبل پڑوسی کے گھر میں منتقل ہوگئے تھے۔بتایا گیا ہے کہ اس علاقے میں مزید 10گھر اور ایک مسجدکسی بھی وقت سمندری موجوں کا نوالہ بننے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔
اس کے علاوہ اچھیلا سومیشور اساحلی علاقے میں بھی سمندری کٹاؤ بڑی تیزی سے بڑھنے لگا ہے۔فشریز روڈ تو پوری طرح سمندر میں بہہ جانے کے قریب ہے ۔جبکہ سومیشورا اور بٹاپاڈی گاؤں کو جوڑنے والی یہی ایک سڑک ہے۔عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ موگویر پٹنا اور کوٹے پاڈو میں سمندری کٹاؤ کو روکنے کا جو کام چل رہا ہے ، اس کی وجہ سے سمندری لہروں کا غضب کائیکو، کلیریا نگراور سومیشورا اچھیلا کی طرف مڑ گیا ہے۔یہاں جو بڑے بڑے پتھروں سے عارضی رکاوٹ کھڑی کی گئی تھی، وہ سب بے قابولہروں کی نذر ہوگئی ہے جس سے یہاں کے عوام میں خوف دہشت کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔